Showing posts with label Dunya. Show all posts
Showing posts with label Dunya. Show all posts

Tuesday, 7 October 2014

Quotes | Khalid Hanif

جناب خالد حنیف صاحب کی کتاب "اختصاریئے" سے ان کے چند اقوال...

دین / دنیا کے موضوع پر:
  • شریعت کی مثال تو نصاب کی سی ہے ، اور نصاب سے باہر بھی بہت کچھ ہوتا ہے.
  • غور سے دیکھا جاۓ تو جہنم میں صرف "پتھر" ہی ہوں گے.
  • نفس کو شیطان کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور مدتیں گزر جاتی ہیں ہم نفس کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے مگر سمجھتے ہیں کہ مذہب کا حق ادا کر رہے ہیں.
  • الله کی عطا ہماری "اوقات" سے تو بڑھ جاتی ہے مگر ہماری توقعات سے اکثر کم پڑتی ہے.
  • طاقت کے باوجود گناہ نہ کرنا نیکی ہے اور نیکی نہ کرنا گناہ.
  • شریعت "مسلط" ہے اور طریقت ... محبت!
  • کاش مناجات مکالمات کا درجہ حاصل کرے!
  • مادیت کے "پیٹ" میں رہنے والا ،

Saturday, 12 April 2014

Allah Walay aur Aurat | Mumtaz Mufti

ایک روز میں نے قدرت للہ سے پوچھا "یہ جو اللہ والے لوگ ہوتے ہیں‘ یہ عورت سے کیوں گھبراتے ہیں۔"
"زیادہ تر بزرگ تو عورتوں سے ملتے ہی نہیں۔ ان کے دربار میں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے."

"یہ تو ہے." وہ بولے.

"سر راہ چلتے ہوئے کوئی عورت نظر آجائے تو گھبرا کر سر جھکا لیتے ہیں. ان کی اس گھبراہٹ میں خوف کا عنصر نمایاں ہوتا ہے. وہ عورت سے کیوں ڈرتے ہیں؟"

Saturday, 3 August 2013

Fancy Hijab... or Paradox... !

Yesterday, I came across the term "Fancy Hijab" while I was visiting a market for some shopping with a friend. He read out this phrase loudly and said "What is so fancy about Hijaab?".

Now I didn't understand what does the word 'fancy' (attractive,  decorative or ornamented) has to do with Hijab! which means covered, modest... As far as I know, purpose of Hijab is to become unnoticable and not to become conspicuous.  It is the symbol of modesty and chastity and not of fashion. It is used by a women to please the God the Almighty and not the people at large!
While this term 'Fancy Hijab' implies the meaning which are opposite of the true meaning of Hijab. Isn't it a paradox!

Sunday, 21 July 2013

انس ، نسیان اور انسان

بزرگ فرما رہے تھے کے انسان کا مادہ "انس" اور "نسیان" سے ہے . انس یعنی محبت کرنا اور نسیان یعنی بھول جانا ... مقصود یہ تھا کے خدا سے محبت اور دنیا کو بھولنا مگر معاملہ الٹ ہو گیا اور اس دنیا میں آ کر انسان رب کو بھول گیا اور دنیا کی محبت میں گرفتار ہو گیا ... اگر انسان اپنی سمت درست کر لے اس معاملے، میں تو زندگی کے راز کو پا لے گا . یہی انسان کی معراج ہے ...