Saturday, 4 January 2014

Excerpts from "Zulm" | Qatra Qatra Qulzam | Wasif Ali Wasif

جناب واصف علی واصف کی تحریر "ظلم" سے چند اقتسابات:

ظلم کا تعلق مظلوم کے احساس سے ہے، کسی ظالم کا کوئی عمل اس وقت تک ظلم نہیں کہلاۓ گا، جب تک مظلوم اس عمل سے پریشان نہ ہو۔ دنیا میں ہونے والے بیشتر مظالم مظلوم کی پسند کا حصہ بنا دئیے جاتے ہیں
۔ بعض اوقات تو مظلوم اس ظلم کو برداشت کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھ لیتا ہے۔

ظالم کا سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ وہ مظلوم کو ظلم سہنے اور ظلم میں رہنے کی تعلیم دے چکا ہوتا ہے ... غریب کو صبر کی تلقین کرنے والا، خود امیر رہنا پسند کرتا ہے، ظلم ہوتا رہتا ہے اور کسی کو خبر تو کیا، احساس تک نہیں ہوتا ! ... فارغ التحصیل ہو کر غریبوں کے بچے کسی مسجد کے امام بن کر اس کے حجرے میں زندگی بسر کرتے ہیں اور امیروں کے بچے افسر بن کر حکومت کرتے ہیں. ظلم ہوتا

Friday, 3 January 2014

Koi Sukhan Barayay Qawafi Nahi Kaha | Ahmad Faraz

کوئی سخن برائے قوافی نہیں ‌کہا ،
اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں ‌کہا ،

ہم اہلِ صدق جرم پہ نادم نہیں رہے ،
مر مِٹ گئے پہ حرفِ معافی نہیں‌ کہا ،


آشوبِ‌ زندگی تھا کہ اندوہِ عاشقی ،
اک غم کو دوسرے کی تلافی نہیں ‌کہا !

Thursday, 2 January 2014

Firaq-e-Yaar Ki Barish, Malaal Ka Mausam

فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ،
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم ،

وہ اک دعا جو میری نامراد لوٹ آئی ،
زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم !

بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ،
ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم ،

Friday, 27 December 2013

Main Ab Tak Chal Raha Hoon | Aatif Saeed



بہت دن سے!
مجھے کچھ اَن کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے
مجھے ہنسنے نہیں دیتے
مجھے رونے نہیں دیتے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے تیز گرمی میں
ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے
گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے

Extracts from "Rifaqat" | Dil Darya Samandar | Wasif Ali Wasif

جناب واصف علی واصف کی تحریر "رفاقت" سے چند اقتسابات:

رفاقت کی تمنا سرشتِ آدم ہے۔ ...  آسمانوں پر بھی انسان کو انسان کی تمنا رہی اور زمین پر بھی انسان کو انسان کی طلب سے مفر ممکن نہیں۔ ... 
 ہماری ہر صلاحیت، رفاقت کی محتاج ہے۔ ... ہماری سماعت آوازِ دوست کی منتظر رہتی ہے۔ ہماری نگاہ دوست کے چہرے سے خوراک لیتی ہے، ہمارا چہرہ مرکزِ نگاہِ یار ہوتا ہے، ہمارے افکار دوست کو

Tuesday, 29 October 2013

Mujhy To Aagahi Kam Hay | Nasir Kazmi

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لطفِ زندگی کم ہے ،
غمِ دل حد سے بڑھ کر ہے ، میسر اب خوشی کم ہے ،

مسلسل دل کی بے چینی کو کیا کہتے ہیں دل والو؟
تمھیں معلوم ہو شاید ، مجھے تو آگہی کم ہے ... !!

- ناصر کاظمی

Mujhay Mehsoos Hota Hay K Lutf-e-Zindagi Kam Hay,
Gham-e-Dil Hadd Say Barh Kr Hay, Muyassar Ab Khushi Kam Hay,

Musalsal Dil Ki Be-Chayni Ko Kia Kehtey Hein Dil Walo?
Tumhey Maloom Ho Shayad, Mujhay To Aagahi Kam Hay ... !!

Tuesday, 24 September 2013

Baa-Adab Baa-Naseeb

سیانے کہہ گۓ ہیں کہ "با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب" ... اگر کوئی شخص ہم سے بدتمیزی سے پیش آے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس سے پھر بات نہ ہو یا اگر ہو بھی جاۓ تو مروت سے ہی ہوتی ہے التفات سے نہیں ... یوں بھی کہتے ہیں کہ استاد کا ادب کامیابی کا پہلا زینہ ہے ... کہ بے ادب شاگرد کو رشد و ہدایت اور محبت نصیب نہیں ہوتیں ... بارگاہ مرشد یا بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بھی فیض صرف انھیں ہی ملتا ہے جو ادب کا دامن تھامے رکھتے ہیں ، باقی لوگ بس "رولا" ڈالی رکھتے ہیں ... اقبال ؒ نے اسی مضمون کو کچھ یوں بیان فرمایا:

خموش اے دل! بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا ،
ادب  پہلا  قرینہ ہے  محبت  کے  قرینوں  میں !