Showing posts with label Ghazal. Show all posts
Showing posts with label Ghazal. Show all posts

Thursday, 5 March 2015

Bhalay DinNo Ki Baat Hay | Ahmad Faraz


 بھلے دنوں کی بات ہے...


بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی​ ،
نہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی​ ،

نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے ،​
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے​ ،

کوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی​ ،
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی​ ،

Sunday, 9 November 2014

Pathar Tha Magar Barf Kay Galon Ki Tarah Tha

پتھر تھا مگر برف کے گالوں کی طرح تھا ،
اک شخص اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا ،

خوابوں کی طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا ،

Tuesday, 7 October 2014

Mujhay Koi Shaam Udhaar Do | Aitbar Sajid

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتاردو ،
میں بہت دنوں سے اداس ہوں، مجھے کوئی شام ادھار دو ،

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو، کہ چمک سکیں مرے خال وخد ،
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اتار دو ،

کسی اور کو مرے حال سے، نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ ،

Saturday, 14 June 2014

Chalo Choro Purani Daastaan Ka Zikar Kya Karna | Ahmad Hammad

چلو چھوڑو پرانی داستاں کا ذکر کیا کرنا ،
ہُوا جو بھی وہ ہونا تھا ،
کیا ترکِ وفا کس نے، وہ میں تھا یا کہ تم جاناں ،
چلو گر یوں ہوا کہ تم نے بخشے ہجر کے لمحے ،
تو کیوں الزام دوں تم کو ،
محبت کی حقیقت ہی ہے کچھ ایسی ،
چلو ہم نے ہمشہ ساتھ رہنے کے اگر پیما کیئے بھی تھے ،
تو پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ پیما مر بھی جاتے ہیں ،
میں اتنا بے خبر ہوں کہ مجھے معلوم ہی کب ہے ،
کہ جاناں اب کہاں ہو تم ،

تم اکثر پوچھا کرتی تھیں ،

Friday, 3 January 2014

Koi Sukhan Barayay Qawafi Nahi Kaha | Ahmad Faraz

کوئی سخن برائے قوافی نہیں ‌کہا ،
اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں ‌کہا ،

ہم اہلِ صدق جرم پہ نادم نہیں رہے ،
مر مِٹ گئے پہ حرفِ معافی نہیں‌ کہا ،


آشوبِ‌ زندگی تھا کہ اندوہِ عاشقی ،
اک غم کو دوسرے کی تلافی نہیں ‌کہا !

Thursday, 2 January 2014

Firaq-e-Yaar Ki Barish, Malaal Ka Mausam

فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ،
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم ،

وہ اک دعا جو میری نامراد لوٹ آئی ،
زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم !

بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ،
ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم ،

Friday, 27 December 2013

Main Ab Tak Chal Raha Hoon | Aatif Saeed



بہت دن سے!
مجھے کچھ اَن کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے
مجھے ہنسنے نہیں دیتے
مجھے رونے نہیں دیتے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے تیز گرمی میں
ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے
گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے

Wednesday, 28 August 2013

Mujhay Ab Dar Nahin Lagta

مجھے اب ڈر نہیں لگتا

کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو آزمانے سے
کسی کے آزمانے سے
کسی کو یاد رکھنے سے
کسی کو بھول جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو چھوڑ دینے سے

Saturday, 24 August 2013

Kahin Kuch Bhi Nhi Badla | Abrar Nadeem

Kahin Kuch Bhi Nhi Badla

Kahin Kuch Bhi Nhi Badla
Naya Ye Shehar Hay Lekin
Akyle Pan Ke Veshat Nay Yahan Bhi Ghair Rakha Hay
Wohi Uljahn Prysahni Jo Pehlay Thi So Ab Bhi Hay
Wohi Din Hain Wohi Raatian
Wohi Hum Hain Wohi Maatian..
Yahan Bhi Soo Balain Hain Jigar Ka Khoon Peeno Ko,
Yahan Bhi Dam Nekalta Hay
Faqat Ek Saans Jeeny Ko

Sunday, 4 August 2013

Meray Pani Mein Mila Aur Zara Sa Pani - Mazahiya Ghazal

Meray Pani Mein Mila Aur Zara Sa Pani,
Meri Adat Hay K Peeta Hoon Main Patla Pani,
 
Allah Allah Safai Say Wo Raghbat Us Ki,

Us Ny Huq’qay Ka Kai Saal Sy Na Badla Pani,
 
Mujh Ko Sugar Bhi Hay Aur Pass-e-Sharee'at B Hay,
Meri Qismat Main Na Meetha Hay Na Karwa Pani,

 
Cha'ay Hi Cha'ay Badan Mein Lahu K Badly,

Dorta Hay Ab Ragon Mein Yehi Ta’ta Pani,
 
Main Nay Ek Falsafi Iss Fikar Mein Dooba Dekha,

Hota Kis Tarah Ka Gila Jo Naa Hota Pani,

Itni Achi B Nahin Itni Samaaji Tanqeed,

Band Ho Jaye Naa Anwar Tera Huq'qa Pani.

- Anwar Masood

Saturday, 27 July 2013

Meray Khaloos Ki Gehrai Say Nahi Miltay...

مرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے ،
یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے !

وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے ملنے آتا ہے ،
ہم اس طرح کسی ہرجائی سے نہیں ملتے !

پُرانے زخم ہیں کافی ، شمار کرنے کو ،
سو، اب کِسی بھی شناسائی سے نہیں ملتے !

ہیں ساتھ ساتھ مگر فرق ہے مزاجوں کا ،
مرے قدم مری پرچھائی سے نہیں ملتے !

محبتوں کا سبق دے رہے ہیں دُنیا کو ،
جو عید اپنے سگے بھائی سے نہیں ملتے !

Tuesday, 23 July 2013

Main Aina Tha Wo Mera Khayal Rakhti Thi...

میں آئینہ تھا ، وہ میرا خیال رکھتی تھی ،
میں ٹوٹتا تھا تو چن کر سنبھال رکھتی تھی .

ہر ایک مسلۓ کا حل نکال رکھتی تھی ،
ذہین تھی مجھے حیرت میں ڈال رکھتی تھی .


میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا ،
وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی .